ختمِ نبوت کے لغوی معانی کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ
کی بعثت نے نبوت کے اس عظیم سلسلے کو، جو حضرت آدم
سے شروع ہو کر مختلف ادوار میں انبیائے کرام
کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی کرتا رہا، اپنی معراجِ کمال تک پہنچا دیا۔ آپ
کی نبوت نے سابقہ تمام انبیائے کرام
کی نبوت کی تصدیق، توثیق اور تکمیل کرتے ہوئے اس پورے سلسلے پر ایسی مہر ثبت کر دی جس کے بعد اس میں کسی قسم کے اضافے، تبدیلی یا تجدید کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس اعتبار سے رسول اللہ
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ آپ
کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لہٰذا نہ کسی سابق نبی کی نبوت کو اس سلسلے سے خارج کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی نئے مدعیِ نبوت کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ گویا نبوت، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے برگزیدہ اور منتخب بندوں کو عطا کیا جانے والا ایک مخصوص منصبِ الٰہی ہے، رسول اکرم
پر اپنے ابدی اور حتمی اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ ڈاکٹر احمد بن سعد الغامدی ختم اور نبوت کے لغوی معانی ذکر کرنے کے بعد ختمِ نبوت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
انتهاء إنباء اللّٰه للناس وانقطاع وحي السماء. 1
(ختمِ نبوت کا معنی ) اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے لیے نبوت کے ذریعے خبر رسانی کا اختتام اور آسمانی وحی کا ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جانا ہے۔
علامہ سفارینی ختم نبوت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
…ومعنى ختم النبوة بنبوته عليه الصلاة والسلام أنه لا تبتدأ نبوة ولا تشرع شريعة بعد نبوته وشريعته…2
حضرت محمدکی نبوت کے ذریعے سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ
کی نبوت کے بعد نہ کوئی نئی نبوت آسکتی ہے اور نہ آپ
کی شریعت کے کوئی نئی شریعت نافذ کی جا سکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ
کو آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا، جن پر سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے اختتام پذیر ہو گیا۔ چنانچہ آپ
کے بعد روئے زمین پر کوئی انسان بھی ایسان نہیں ہوسکتا ہے جس کے پاس حضرت جبرئیل
اللہ تعالیٰ کا کوئی نیا پیغام لے کر آئیں، یا اس پر کوئی آسمانی کتاب نازل کی جائے، نہ حالت بیداری میں کسی پر وحی کی جاسکتی ہے اور نہ حالتِ خواب میں کسی کے پاس فرشتہ آسکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص اس قسم کا کوئی دعویٰ کرے، وہ جھوٹا، کذاب، دجال اور دروغ گو ہوگا۔ اس کے دعوے کا رتی برابر اعتبار نہیں کیا جائے گا چہ جائیکہ اس پر اس سے دلیل طلب کر لی جائے۔
عقیدہ ختمِ نبوت
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے، جس پر امتِ مسلمہ کا چودہ صدیوں سے نہ صرف اجماع چلا آ رہا ہے، بلکہ عہدِ نبوت سے لے کر آج تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ حضور نبی کریم
بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ یہ محض ایک اعتقادی مسئلہ نہیں بلکہ اسلامی عقیدہ، شریعت، وحی، رسالت اور امت کی فکری وحدت کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام کا پورا مذہبی ڈھانچہ اس حقیقت پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد
کو آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا،اور آپ
پر دین اور نبوت کی تکمیل فرمائی۔
عقائد سے مراد وہ حقائق ہیں جن کی دل سے تصدیق کرنا ضروری ہے، جن پر انسان کا نفس کامل اطمینان حاصل کرے، اور جو اس کے نزدیک ایسا پختہ یقین بن جائیں کہ ان میں نہ کسی شک کی آمیزش ہو اور نہ کسی قسم کا شبہ راہ پا سکے۔3چنانچہ "عقیدۂ ختمِ نبوت" کا مطلب کامل اطمینان کے ساتھ پختہ یقین رکھنااور دل سے اس بات کی تصدیق کرنا کہ حضرت محمد مصطفیٰ
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ
کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہو سکتا ہے، نہ کسی شخص پر وحی نازل کی جاسکتی ہے، اور نہ ہی کوئی نئی شریعت یا مستقل دینی منصب قائم کیا جا سکتا ہے۔ آپ
کی بعثت کے ساتھ سلسلۂ نبوت ہمیشہ کے لیے مکمل اور اختتام پذیر ہو گیا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات اور رسول اللہ
کے سینکڑوں احادیث سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ ارشادِخداوندی ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا 40 4
محمد () تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
حضرت انس بن مالک
سے روایت ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
إن الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي. 5
بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے؛ لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔
امام آلوسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
کا خاتم النبیین ہونا ایسا قطعی عقیدہ ہے جس پر قرآنِ کریم واضح طور پر دلالت کرتا ہے، احادیث نبویہ نے اس کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے۔ لہٰذا جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ کافر ہے، اور اگر اپنے اس دعوے پر اصرار کرے تو (اسلامی ریاست میں شرعی قانون کے مطابق) اسے قتل کیا جائے گا۔6امام طحاوی امت مسلمہ کے متفقہ اور اجماعی عقائد کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
إن محمدا عبده المصطفى ونبيه المجتبى ورسوله المرتضى، وأنه خاتم الأنبياء وإمام الأتقياء وسيد المرسلين وحبيب رب العالمين، وكل دعوى النبوة بعده فغي وهوى. 7
(ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ) حضرت محمداللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، منتخب نبی اور پسندیدہ رسول ہیں۔ آپ
خاتم الانبیاء، اہلِ تقویٰ کے پیشوا، تمام رسولوں کے سردار اور ربِّ العالمین کے محبوب ہیں، اور آپ
کے بعد نبوت کا ہر دعویٰ نفسانی خواہش، گمراہی،اور باطل ہے۔
لہذا وہی لوگ اہل ایمان کہلائیں گے جن کا عقیدہ یہ ہو کہ جن وانس کی رشدوہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء
کا جو عظیم الشان سلسلہ جاری فرمایا، اس سلسلہ کو سیدالمرسلین خاتم النّبیین حضرت محمد
کی ذات اقدس پر مکمل فرمایا۔ لہٰذا اب قیامت تک کسی اور کونبی بنایانہیں جائے گا ،اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں جس طرح شرکت ممکن نہیں ،اسی طرح حضر ت محمدرسول اللہ
کی ختم نبوت میں بھی شرکت ممکن نہیں ۔آپ
کی رحلت کے بعد اب تاقیامت دنیا میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ رہی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ
کا آخری زمانے میں نزول ہوگا تو یہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے ہرگز منافی نہیں؛ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ اپنی سابقہ شریعت کے مطابق نہیں، بلکہ ہمارے نبی حضرت محمد
کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے۔ اس لیے کہ ان کی سابقہ شریعت منسوخ ہوچکی ہوگی، چنانچہ اصول اورفروع میں وہ شریعتِ محمدی
پر عمل کریں گے۔ اس بنا پر ان کی حیثیت ایک نئے نبی یا مستقل شریعت لانے والے کی نہیں ہوگی، بلکہ وہ رسول اللہ
کے خلیفہ اور آپ
کی امت میں آپ
کے دین کے مطابق فیصلے کرنے والے ایک عادل حاکم کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیں گے۔ 8
عقیدہ ختم نبوت سے مسلمانوں کی مراد
اکابر علمائے اسلام نے اس حدیث کہ " میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا"9کے یہی معنی بتلائے ہیں کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سابقہ پیغمبر آبھی جائے(جیسے کہ عیسی
تشریف لائیں گے) تو مفہومِ ختم نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی آپ
کی شریعت کے ماتحت ہوں گے کیونکہ یہ دور دورِ محمدی
ہے۔10یعنی کہ حضور
کی شانِ خاتمیت کے دو پہلو ہیں:
- یہ کہ کسی قسم کا کوئی نیا نبی پیدا نہ ہو۔
- یہ کہ پہلوں میں سے کوئی آجائے تو وہ آپ
کے احکام کے تابع ہو کر رہے۔
خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جب ایک طرف عالم کی بنیادرکھی ،تو اسی کے ساتھ دوسری طرف قصرِنبوت کی پہلی اینٹ بھی رکھ دی،یعنی عالم میں جس کو اپنا خلیفہ بنایاتھا، اسی کوقصرنبوت کی خشتِ اول قرار دیا، اِدھر عالم بتدریج پھیلتارہا،اُدھر قصرِنبوت کی تعمیرہوتی رہی ،آخرکار عالم کے لیے جس عروج پرپہنچنا مقدرتھا،پہنچ گیا،ادھرقصرِنبوت بھی اپنے جملہ محاسن اورخوبیوں کے ساتھ مکمل ہوگیا اور اس لیے ضروری ہوا کہ جس طرح عالم کی ابتداء میں رسولوں کی بعثت کی اطلاع دی تھی، اس کے انتہاء پررسولوں کے خاتمہ کا بھی اعلان کردیاجائے؛ تاکہ قدیم سنت کے مطابق آئندہ اب کسی رسول کی آمدکا انتظارنہ رہے۔جب تک عالم اپنے عروج کو نہیں پہنچا تھا، سنت ِا لٰہی کے مطابق انبیاء کرام
آتے رہے اورہر نبی اپنے بعد دوسرے نبی کی بشارت دیتا رہا تاہم کسی نبی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خاتم النبیین ہے۔ حتی کہ وہ زمانہ آگیا کہ اسرائیلی سلسلے کے آخری رسول حضرت عیسیٰ
نے ایسے رسول کی بشارت دی جس کا اسم مبارک احمد
ہے۔
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ...6 11
رجمہ: اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب عیسٰی بن مریم () نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم
) کی (آمد آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد (
) ہے۔
عالم کے اس منتظر اورحضرت عیسیٰ
کے اس مبشررسول نے دنیا میں آکر ایک نیااعلان کیا اورہ یہ تھا کہ میں اب آخری رسول ہوں ،میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول آئے گا۔ آپ
کے بعد نئی نبوت، نئی رسالت، نئی شریعت، نئی امت کو نہ ماننا درحقیقت عقیدہ ختم نبوت کہلاتا ہے جس پر ایمان کامل لانا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔یہی عقیدہ دراصل دو حقیقتوں پر مشتمل ہے: پہلی یہ کہ نبوت کا سلسلہ حضرت محمد
پر مکمل ہو چکا ہے۔دوسری یہ کہ قیامت تک انسانیت کی ہدایت کے لیے قرآنِ کریم، سنتِ رسول
اور اسلامی شریعت ہی آخری اور کامل ذریعۂ ہدایت ہیں۔
- 1 أحمد بن سعد الغامدي، عقيدة ختم النبوة بالنبوة المحمدية، مطبوعة: جامعة الملك عبد العزيز، مكة المكرمة، السعودية، 1398ھ، ص: 11
- 2 أبو العون محمد بن أحمد السفاريني، لوامع الأنوار البهية وسواطع الأسرار الأثرية لشرح الدرة المضية في عقد الفرقة المرضية، ج-2، مطبوعة: مؤسسة الخافقين ومكتبتها، دمشق، سوريا، 1982م، ص: 277
- 3 الشهيد حسن البنا، العقائد، مطبوعة: دار الدعوة، الإسكندرية، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 7
- 4 القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
- 5 أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي، جامع الترمذي، حديث: 2272، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 2009م، ص: 687
- 6 أبو الثناء محمود بن عبد الله الألوسي، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج-11، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1415ھ، ص: 219- 220
- 7 أبو جعفر محمد بن أحمد الطحاوي، العقيدة الطحاوية، مطبوعة: المكتب الإسلامي، بيروت، لبنان، 1414ھ، ص: 36- 39
- 8 الدكتور صالح بن فوزان الفوزان، الإرشاد إلى صحيح الاعتقاد والرد على أهل الشرك والإلحاد، مطبوعة: دار ابن الجوزي، الدمام، السعودية، 1999م، ص: 210
- 9 أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري، صحیح البخاري، حديث: 3455، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 1999م، ص: 582
- 10 ڈاکٹر علامہ خالد محمود، عقیدۃ الامت فی معنی ختم النبوت، مطبوعہ: دار المعارف، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 22
- 11 القرآن، سورة الصف 61: 6

) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم