عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی، قطعی اور اجماعی عقائد میں سے ہے، جس پر ایمان کی تکمیل اور اسلامی شناخت کا مدار ہے۔ قرآنِ کریم نے حضرت محمد
کو واضح طور پر خاتم النبیین قرار دیا، احادیثِ نبویہ
نے آپ
کے بعد ہر قسم کی نبوت و رسالت کے انقطاع کو صریح الفاظ میں بیان کیا، اور امتِ مسلمہ نے عہدِ صحابہ سے آج تک اس عقیدے پر متفقہ طور پر ایمان رکھا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن و حدیث، اقوالِ ائمہ، اجماعِ امت اور صحابۂ کرام
کی عظیم قربانیوں کی روشنی میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اساسی حیثیت، شرعی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ایمانی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔
اساسی عقیدہ
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی، قطعی اور اجماعی عقائد میں سے ہے۔ یہ کوئی فروعی یا ثانوی مسئلہ نہیں، بلکہ ایمان کی اساس اور اسلامی عقیدے کا ایک لازمی جزء ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد
کی رسالت پر ایمان لائے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں، اسی طرح آپ
کو خاتم النبیین اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول تسلیم کیے بغیر بھی ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ ابن نجیم فرماتے ہیں:
.....إذا لم يعرف أن محمدا صلى اللّٰه عليه وسلم آخر الأنبياء فليس بمسلم؛ لأنه من الضروريات.1
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ حضرت محمدآخری نبی ہیں، تو وہ مسلمان نہیں؛ کیونکہ یہ دینِ اسلام کے ان بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے جس کا علم ہر مسلمان کے لیے لازمی ہے۔
قرآنِ کریم کی صراحت
قرآنِ مجید نے نہایت واضح، دوٹوک اور قطعی انداز میں حضرت محمد
کا اسمِ گرامی لے کر یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے آشکار کر دی ہے کہ آپ
خاتم النبیین ہیں۔ اس اعلان میں کسی قسم کے ابہام، تاویل یا شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا 40 2
محمد () تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں ابن عطیہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امت کے متقدمین اور متأخرین جمہور علماء کے نزدیک یہ الفاظ اپنے عمومی اور قطعی مفہوم پر محمول ہیں، جو دلالتِ نص کے طور پر اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ رسول اللہ
کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ 3 علاوہ ازیں، قرآنِ کریم کی 100 آیاتِ کریمہ سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ 4
حدیثِ نبوی
کی وضاحت
احادیث نبویہ
سے شغف رکھنے والا شخص اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے کہ آپ
نے مختلف اسالیب تعبیرات سے متعدد مواقع پر ختم نبوت اور اپنے بعد انقطاعِ وحی کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ان احادیث میں سے بہت سی ایسی ہیں جو تواتر کے درجے کو پہنچتی ہیں۔چنانچہ امام عبدالقاہر بن طاہر بغدادی فرماتے ہیں کہ نبی کریم
سے یہ خبر متواتر طور پر منقول ہے کہ آپ
نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ 5
چنانچہ رسول اللہ
نے متعدداحادیث میں نہایت صریح الفاظ میں اس حقیقت کی وضاحت کردی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔حضرت ثوبان
سے روایت ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين، وحتى يعبدوا الأوثان، وإنه سيكون في أمتي ثلاثون كذابون كلهم يزعم أنه نبي وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي. 6
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے مشرکوں سے جا نہ ملیں اور بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ نیز میری امت میں 30 بڑے جھوٹے پیدا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اسی طرح حضرت انس بن مالک
سے روایت ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
إن الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي..... 7
بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے، لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔
مزید برآں، حمتِ عالم
کی احادیث متواترہ (210احادیث) سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ 8
امت کا اجماع
امتِ محمدیہ
کااس بات پر اجماع ہے کہ آپ
خاتم النبیین ہے اور آپ
کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ قاضی عیاض اپنی شہرۂ آفاق کتاب الشفا میں فرماتے ہیں کہ آپ
نے خبر دی ہے کہ آپ
خاتم النبیین ہیں اور آپ
کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ آپ
نے یہ خبر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی کہ آپ
انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام (خاتم النبیین) بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے ۔اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے وہ ہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔ 9 بلکہ اس سے بڑھ کر اس امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔ چنانچہ علامہ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں:
واوّل اجماعے كه دریں امت منعقد شدہ اجماع بر قتل مسیلمه كذاب بوده كه بسبب دعوى نبوت بود، شنائع دگروے صحابه رضى الله عنهم رابعد قتل وے معلوم شده، چنانكه ابن خلدون آورده سپس اجماع بلا فصل قرناً بعد قرنٍ بركفر و ارتداد و قتل مدعى نبوت مانده و هیچ تفصیلے از بحث نبوت تشریعیه و غیر تشریعیه نبوده. 10
اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا، جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا، اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرامکو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا، جیسا کہ ابن خلدون نے نقل کیا ہے، اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے، اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔
مذکورہ بالا معیارات کی روشنی میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت، اہمیت اور بنیادی حیثیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے؛ کیونکہ یہی وہ اصولی معیارات ہیں جن کی بنیاد پر اسلام میں کسی عقیدے کا اثبات ہوتا ہے۔ اسی لیے عقیدۂ ختمِ نبوت کا انکار درحقیقت ان تمام معیارات اور دلائلِ قطعیہ کا انکار ہے، کیونکہ یہ عقیدہ قرآنِ کریم کی قطعی نصوص، رسول اللہ
کی متعدد صحیح اور صریح احادیث، اور امتِ مسلمہ کے متفقہ اجماع سے ثابت ہے۔ لہٰذا اس کا انکار محض ایک جزوی اختلاف نہیں، بلکہ قرآن، سنت اور اجماعِ امت جیسے بنیادی شرعی مصادر کی تکذیب ہے۔ اس لیے جس عقیدے کا انکار انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دے، اس سے بڑھ کر اس عقیدے کی قطعیت، اہمیت اور بنیادی حیثیت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ چنانچہ عقیدۂ ختمِ نبوت بھی انہی قطعی اور بنیادی عقائد میں سے ہے جن پر ایمان کی عمارت قائم ہے، اور جن کا انکار دراعلیٰ درجے کا کفر ہے۔
اہمیت کا دوسرا پہلو
عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ رحمتِ عالم
کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام
ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لیے جام شہادت نوش کرگئی۔چنانچہ رسول اللہ
کے زمانے میں اسلام کے تحفظ ودفاع کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئیں ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام
کی کل تعداد 259 ہے۔ 11 جبکہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ ودفاع کے لیے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو حضرت صدیق اکبر
کے عہدِخلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کرام
اور تابعین کی تعداد 1200 ہے ، جن میں 700 حفاظِ قرآن تھے۔ 12
علاوہ ازیں، حضراتِ صحابۂ کرام
نے نہ صرف اجتماعی سطح پر عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت کی بلکہ انفرادی طور پر بھی انہوں نے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ چنانچہ حبیب بن زید
اس عقیدے کے تحفظ میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے لیکن عقیدۂ ختم نبوت پر آنچ نہ آنے دی۔ اسد الغابۃ میں لکھا ہے کہ :
حبيب هو الذي أرسله رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إلى مسيلمة الكذاب الحنفي، صاحب اليمامة، فكان مسيلمة إذا قال له: أتشهد أن محمدا رسول اللّٰه ؟ قال: نعم، وإذا قال: أتشهد أني رسول اللّٰه ؟ قال: أنا أصم لا أسمع، ففعل ذلك مرارا، فقطعه مسيلمة عضوا عضوا، فمات شهيدا رضي اللّٰه عنه. 13
حضرت حبیبوہ جلیل القدر صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ
نے یمامہ کے جھوٹے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجا تھا۔ مسیلمہ ان سے پوچھتا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد
اللہ کے رسول ہیں؟ تو وہ بلا جھجک جواب دیتے: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں۔ پھر مسیلمہ کہتا: کیا تم اس بات کی بھی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو حضرت حبیب
نے نہایت جرأت اور استقامت کے ساتھ جواب دیا: میں بہرا ہوں، تمہاری یہ بات سن ہی نہیں رہا۔ مسیلمہ نے یہ سوال بار بار دہرایا، لیکن حضرت حبیب
ہر مرتبہ یہی جواب دیتے رہے۔ آخرکار اس نے غضب ناک ہو کر آپ
کے جسم کے اعضا ایک ایک کر کے کاٹ ڈالے، اور آپ
جامِ شہادت نوش کر گئے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی، قطعی اور اجماعی عقائد میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد قرآنِ کریم کی واضح نصوص، احادیثِ متواترہ، اجماعِ امت اور چودہ صدیوں کے مسلسل تعامل پر قائم ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو شریعتِ محمدی
کی تکمیل، دینِ اسلام کی ابدیت اور نبوتِ محمدی
کے عالمگیر و دائمی ہونے کا مظہر ہے۔ اسی عقیدے پر ایمان کی سلامتی اور بقا کا دار و مدار ہے۔ جس طرح ایک مسلمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا اور اسے اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا، اسی طرح عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے بھی ہر قسم کی قربانی پیش کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضراتِ صحابۂ کرام
نے اس عقیدے کی حفاظت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، جانیں نچھاور کیں اور ہر اس فتنے کا پوری قوت اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا جو ختمِ نبوت کے خلاف اٹھا۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس عقیدے کو دل و جان سے تسلیم کرے، اس کی حقیقت اور دلائل سے آگاہی حاصل کرے، اور اس کے تحفظ و دفاع کو اپنی ایمانی ذمہ داری سمجھے۔
- 1 زين الدين بن إبراهيم ابن نجيم، الأشباه والنظائر على مذهب أبي حنيفة النعمان، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1999م، ص: 161
- 2 القرآن، سورة الأحزاب 33: 40
- 3 أبو عبد ﷲ محمد بن أحمد القرطبي، الجامع لأحکام القرآن المعروف بتفسير القرطبي، ج-14، مطبوعة: دار الکتب المصرية، القاهرة، مصر، 1964م، ص: 196
- 4 مولانا اللہ وسایا، آئینہ قادیانیت، مطبوعہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 27
- 5 أبو منصور عبد القادر بن طاهر البغدادي، أصول الدين، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2002م، ص: 184
- 6 أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي، جامع الترمذي، حديث: 2219، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 2009م، ص: 670-671
- 7 أيضًا، حديث: 2272، ص: 687
- 8 مولانا اللہ وسایا، آئینہ قادیانیت، مطبوعہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 28
- 9 أبو الفضل عیاض بن موسی اليحصبي، الشفا بتعریف حقوق المصطفی ﷺ، ج-2، مطبوعة: دار الفیحاء، عمان، 1407ھ، ص: 610
- 10 محمد انور شاہ بن معظم شاہ کشمیری، خاتم النبیین، مطبوعہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد،ص: 67
- 11 قاضی محمد سلمان منصورپوری، رحمۃ للعالمین ﷺ، ج-2، مطبوعہ: شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہو، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 213
- 12 أبو الحسن علي بن سلطان محمد الملا علي القاريء، مرقاة المفاتیح، ج-4، مطبوعة: دار الفکر، بیروت، لبنان، 2002م، ص: 1515
- 13 أبو الحسن علي بن أبي الكرم عز الدين ابن الأثير الجزري، أسد الغابة في معرفة الصحابة، ج-1، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1994م، ص: 675
